نئی دہلی 12مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) آندھرا پردیش کو خصوصی درجے کا مطالبہ، پنجاب نیشنل بینک فراڈ کیس اور کاویری پانی کے انتظامیہ بورڈ کے قیام کا مطالبہ سمیت مختلف مسائل پر کانگریس، ترنمول کانگریس، تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی)، وائی ایس آر کانگریس اور انادرمک وغیرہ جماعتوں کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی آج ایک بار ملتوی کے بعد پورے دن کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں پہلے پانچ دن کی کارروائی ان ہی مسائل پر ہنگامے کی نذر ہو چکی ہے۔ اختتام ہفتہ کے بعد آج چھٹے دن بھی ان موضوعات پر ارکان کی نعرے بازی کی وجہ سے کام کاج نہیں ہوسکا۔ بھاری ہنگامے کی وجہ سے ایک بار ملتوی کے بعد ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے کے بعد شروع ہوئی تو ٹی ڈی پی، وائی ایس آر کانگریس، انادرمک، ٹی آر ایس اور ترنمول کانگریس کے رکن اپنے مسائل پر نعرے بازی کرتے ہوئے نشستوں کے درمیان میں آگئے ۔ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے رکن ان مقامات پر کھڑے ہوکر احتجاج درج کرا رہے تھے۔ ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر کانگریس کے رکن گزشتہ ہفتے کی طرح آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دیئے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ادھر ترنمول کانگریس کے ایم پی آسن کے پاس آکر پی این بی فراڈ کیس پر نعرے بازی کر رہے تھے، کانگریس کے ایم پی بھی اپنے مقام پر کھڑے ہوکر ان کی حمایت کر رہے تھے۔ ٹی ڈی پی کے اشوک گج پتی راجو بھی آج اپنے عملے کے ساتھیوں کے ساتھ پیلاپٹا پہن کر آسن کے قریب کھڑے تھے۔ انہوں نے اور اسی پارٹی کے وائی ایس چودھری نے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ پوری نہیں ہونے پر گزشتہ ہفتے ہی مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دیا تھا۔ ہمیشہ ہی مختلف طریقے سے احتجاج درج کرانے والے ٹی ڈی پی کے رہنما این شوپرساد آج شہنائی جیسا موسیقی آلہ لے کر ایوان میں پہنچے تھے۔ انادرمک کے رکن کاویری پانی کے انتظامیہ بورڈ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے تو تلنگانہ راشٹر سمیتی کے رکن اپنی ریاست میں ریزرویشن کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ اٹھا رہے تھے۔ ان دونوں جماعتوں کے تمام ممبر پارلیمنٹ بھی آسن کے قریب نعرے بازی کر رہے تھے۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے بھاری ہنگامے کے درمیان ضروری کاغذات پیش کرائے۔ خزانہ کے وزیر شیوپرتاپ شکلا نے اس درمیان چٹ فنڈ (ترمیمی) بل، 2018 اورمفرور اقتصادی مجرم بل 2018 پیش کئے۔ ہنگامہ رفع نہیں ہوتے ہوئے دیکھتے ہوئے صدر نے ایوان کی کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی کر دی۔ اس سے پہلے صبح ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر صدر نے جیسے ہی وقفہ سوال شروع کرنے کو کہا، ویسے ہی ٹی ڈی پی، وائی ایس آر کانگریس، ٹی آر ایس، انادرمک اور ترنمول کانگریس کے رکن اپنے مسائل پر نعرے بازی کرتے ہوئے آسن کے قریب آ گئے تھے اور ہنگامہ تھمتا نہیں دیکھ صدر نے چند منٹ بعد اجلاس دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دی تھی۔ انہی مسائل کو لے کر گذشتہ پورے ہفتے ایوان میں کام کاج نہیں ہوسکا۔